یوں کھلے عام کہاں اپنی زباں کھولتی ہے
ہاں، بہت گہری محبت ہے، یہ کم بولتی ہے
میں تو ہر بار خرد کوکھ سے لیتا ہوں جنم
عشق آیا، میری گھٹی میں جنوں گھولتی ہے
عشق میں اونگھ اگر آئی تو پھر جان گئی
اس میں کچھ اور ہی پیمانے ہیں پیمائش کے
ناپتی ہے یہ خوشی، اور نہ غم تولتی ہے
ڈگمگاتے ہیں کہاں آگ پہ بھی اس کے قدم
آسماں کانپنے لگتا ہے،۔ زمیں ڈولتی ہے
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment