Tuesday, 20 December 2016

محبتوں کا بھی نفرتوں میں شمار آیا تو کیا کرو گے

محبتوں کا بھی نفرتوں میں شمار آیا تو کیا کرو گے
تمہاری جانب سے میرے دل میں غبار آیا تو کیا کرو گے 
یہ تعن و تشنیع، یہ تلخ باتیں، مجھے جلانے کو کر رہے ہو
تمہاری باتوں سے میرے دل کو قرار آیا تو کیا کرو گے 
تم اپنی قاتل نظر سے جاناں! شرر فشانی تو کر رہے ہو
مری نگاہوں میں زندگی کا خمار آیا تو کیا کرو گے 
نہ امتحانِ وفا میں ڈالو،۔ میرے ارادے عظیم تر ہیں
میں راستے کی ہر ایک منزل گزار آیا تو کیا کرو گے 
سروؔش گلشن اجاڑتے ہو، گلوں سے گھر کو سجا رہے ہو
جو گلستاں میں گلوں کے بدلے، شرار آیا تو کیا کرو گے 

اختر سروش

No comments:

Post a Comment