محبتوں کا بھی نفرتوں میں شمار آیا تو کیا کرو گے
تمہاری جانب سے میرے دل میں غبار آیا تو کیا کرو گے
یہ تعن و تشنیع، یہ تلخ باتیں، مجھے جلانے کو کر رہے ہو
تمہاری باتوں سے میرے دل کو قرار آیا تو کیا کرو گے
تم اپنی قاتل نظر سے جاناں! شرر فشانی تو کر رہے ہو
نہ امتحانِ وفا میں ڈالو،۔ میرے ارادے عظیم تر ہیں
میں راستے کی ہر ایک منزل گزار آیا تو کیا کرو گے
سروؔش گلشن اجاڑتے ہو، گلوں سے گھر کو سجا رہے ہو
جو گلستاں میں گلوں کے بدلے، شرار آیا تو کیا کرو گے
اختر سروش
No comments:
Post a Comment