Tuesday, 11 May 2021

آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو

 آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو

دن بھر چہرے جمع کئے ہیں کھو جائیں گے شام کو

سارے پیڑ سفر میں ہوں گے اور گھروں کے سامنے

جتنے پیڑ ہیں اتنے سائے لہرائیں گے شام کو

دن کے شور میں شامل شاید کوئی تمہاری بات بھی ہو

آوازوں کے اُلجھے دھاگے سُلجھائیں گے شام کو

شام سے پہلے درد کی دولت موجیں ہیں بے نام سی

دریاؤں سے مل کے دریا بَل کھائیں گے شام کو

صبح سے آنگن میں آندھی ہے اندھیارا ہے دُھول ہے

شاید آگ چُرانے والے گھر آئیں گے شام کو


رئیس فروغ

No comments:

Post a Comment