سفر میں جب تلک رہنا گھروں کی آرزو کرنا
گھروں میں بیٹھ کر بیتے سفر کی گفتگو کرنا
رفوگر چاند نکلا ہے نہ تارے ہیں نہ جگنو ہیں
رفوگر اپنے ہاتھوں کے اجالے میں رفو کرنا
تمہیں دیکھیں نہ دیکھیں ایک عادت ہے کہ ہر شب کو
غمِ نا آگہی! جب رقصِ وحشت کا خیال آئے
کہیں اوپر سے کچھ نیلاہٹیں لا کر وضو کرنا
جنہیں روٹھے ہوئے دلدار کی بانہیں سمجھتے ہو
وہ شاخیں کاٹ لانا پھر انہیں زیبِ گلو کرنا
نئے چہروں سے ملنے کیلئے کیا شکل بہتر ہے
پرانے پیرہن پر رنگ کرنا یا لہو کرنا
رئیس فروغ
No comments:
Post a Comment