ایک تصویر بولتی ہوئی ہے
دل کی دیوار پر ٹنگی ہوئی ہے
ہو گیا ہے خطا نشانہ مِرا
آپ کی زندگی بچی ہوئی ہے
آخری بار میں ملا تھا جہاں
وہ وہیں پر ابھی کھڑی ہوئی ہے
گرد ہے آئینے پہ تہ در تہ
شکل بالکل ہی دوسری ہوئی ہے
ذہن میں تھی عجب سی تاریکی
عشق آیا تو روشنی ہوئی ہے
جانے کب تک بُجھے گی اے جاوید
آگ سینے میں جو لگی ہوئی ہے
ملک زادہ جاوید
No comments:
Post a Comment