رہ گزاروں میں روشنی کے لیے
لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دِیے
ذائقہ تلخ ہے محبت کا
آدمی زہرِ غم پیۓ نہ پیۓ
دل میں یادوں کے رتجگے جیسے
ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دِیے
دل میں طوفان ہیں چھپائے ہوئے
ہم تو بیٹھے ہیں اپنے ہونٹ سیۓ
کوئی تجھ سا نظر نہیں آتا
دل نے سو رنگ انتخاب کیۓ
در بدر شہر میں پھرے یارو
اپنے کاندھے پہ اپنی لاش لیے
دل کی دل میں رہیں تمنائیں
آنکھوں آنکھوں میں کتنے اشک پیۓ
جان پیاری ہمیں بھی تھی ایوب
اپنی خاطر مگر کبھی نہ جیۓ
ایوب رومانی
No comments:
Post a Comment