Wednesday, 6 October 2021

مجھے دنیا سے نفرت ہو رہی ہے

مجھے دنیا سے نفرت ہو رہی ہے

مگر تم سے محبت ہو رہی ہے

ابھی تو امن کا پیکر ہے باقی

ابھی سے کیوں بغاوت ہو رہی ہے

بزرگوں کی دعا کا فیض ہے یہ

مجھے حاصل جو شہرت ہو رہی ہے

بڑھاپا بڑھ رہا ہے جیسے جیسے

سہارے کی ضرورت ہو رہی ہے

مجاز خوش نوا کی شاعری میں

نمایاں اک حقیقت ہو رہی ہے


مجاز امروہوی

No comments:

Post a Comment