Friday, 18 February 2022

اک آس کے دھندلے ورق پر بسرے لمحے

 ادھوریت


اک آس کے دھندلے ورق پر

بسرے لمحے اتارے ہیں

صحیفوں کی طرح اس پہ

کچھ الہام اتارے ہیں

ان کہی باتوں کی چبھن

اور انگار لہجے اتارے ہیں

زندانِ محبت سے اس کی

شبیہہ کے پر اتارے ہیں

وجدان کے پردے پر اب

کچھ نایاب پل اتارے ہیں

اور ان سب کو اکٹھا کر کے

ادھورے لمس اتارے ہیں

ان دیکھی سیاہی ہے

انمٹ سی یادیں ہیں

قرطاسِ دل اب بھی مگر

بلکل سادہ ہے

کچھ دکھتا نہیں کسی کو

کچھ سُجھتا نہیں کسی کو

گویا تعبیر کے پردے پر

ادھورے خواب اتارے ہیں


فیصل ملک

No comments:

Post a Comment