ادھوریت
اک آس کے دھندلے ورق پر
بسرے لمحے اتارے ہیں
صحیفوں کی طرح اس پہ
کچھ الہام اتارے ہیں
ان کہی باتوں کی چبھن
اور انگار لہجے اتارے ہیں
زندانِ محبت سے اس کی
شبیہہ کے پر اتارے ہیں
وجدان کے پردے پر اب
کچھ نایاب پل اتارے ہیں
اور ان سب کو اکٹھا کر کے
ادھورے لمس اتارے ہیں
ان دیکھی سیاہی ہے
انمٹ سی یادیں ہیں
قرطاسِ دل اب بھی مگر
بلکل سادہ ہے
کچھ دکھتا نہیں کسی کو
کچھ سُجھتا نہیں کسی کو
گویا تعبیر کے پردے پر
ادھورے خواب اتارے ہیں
فیصل ملک
No comments:
Post a Comment