جو خواہش دل تھی وہی کر جاتے تو اچھا
ناموس محبت پہ ہی مر جاتے تو اچھا
سینے میں یہ دھک دھک کی صدا رکنے سے پہلے
ہم زیست کی گاڑی سے اتر جاتے تو اچھا
ناسور کی صورت میں نظر آنے سے پہلے
کچھ زخم تِری یاد کے بھر جاتے اچھا
حالات کشیدہ ہیں میرے شہر کے لوگو
تم لوگ سرِ شام ہی گھر جاتے تو اچھا
اک اور غزل آج بھی ہو جاتی مکمل
کچھ شعر اسد اور اتر جاتے تو اچھا
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment