Friday, 18 February 2022

جو خواہش دل تھی وہی کر جاتے تو اچھا

 جو خواہش دل تھی وہی کر جاتے تو اچھا

ناموس محبت پہ ہی مر جاتے تو اچھا

سینے میں یہ دھک دھک کی صدا رکنے سے پہلے

ہم زیست کی گاڑی سے اتر جاتے تو اچھا

ناسور کی صورت میں نظر آنے سے پہلے

کچھ زخم تِری یاد کے بھر جاتے اچھا

حالات کشیدہ ہیں میرے شہر کے لوگو

تم لوگ سرِ شام ہی گھر جاتے تو اچھا

اک اور غزل آج بھی ہو جاتی مکمل

کچھ شعر اسد اور اتر جاتے تو اچھا


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment