Friday, 18 February 2022

دم آخر تشنہ پلٹ آئے

 کیا مضائقہ 

کہ تمہارے جام سے سرخ شراب کا 

ایک جرعہ بھی میرا نصیب نہ بن سکا؟ 

تمہاری انگلیاں میرے ہاتھوں کو چھو نہ سکیں 

تمہارے ہونٹ میرے لبوں کا ذائقہ نہ بن سکے؟ 

کیا مضائقہ

کہ ہمارے راستے یکجا نہ ہو سکے؟ 

سنہری زرد شام ہمارا مقدر نہ بن سکی؟ 

ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے تارکول کی لمبی سڑک 

پر میلوں دور چل نہ سکے؟ 

کیا مضائقہ  

کہ ہم نے ایک دوسرے سے محبت کی 

لیکن کبھی مل نہ سکے

ہمارے ہاتھ، لب، نگاہیں 

حسرتِ آب و گیاہ سے مچلتے رہے

اور دم آخر تشنہ پلٹ آئے


طوبیٰ منہاس

No comments:

Post a Comment