کیا مضائقہ
کہ تمہارے جام سے سرخ شراب کا
ایک جرعہ بھی میرا نصیب نہ بن سکا؟
تمہاری انگلیاں میرے ہاتھوں کو چھو نہ سکیں
تمہارے ہونٹ میرے لبوں کا ذائقہ نہ بن سکے؟
کیا مضائقہ
کہ ہمارے راستے یکجا نہ ہو سکے؟
سنہری زرد شام ہمارا مقدر نہ بن سکی؟
ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے تارکول کی لمبی سڑک
پر میلوں دور چل نہ سکے؟
کیا مضائقہ
کہ ہم نے ایک دوسرے سے محبت کی
لیکن کبھی مل نہ سکے
ہمارے ہاتھ، لب، نگاہیں
حسرتِ آب و گیاہ سے مچلتے رہے
اور دم آخر تشنہ پلٹ آئے
طوبیٰ منہاس
No comments:
Post a Comment