Thursday, 14 January 2021

دیکھ سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ (اکھیاں نوں رہن دے)

٭ اکھیاں نوں رہن دے٭


“ویکھن دا چاہ سانوں

مُکھ پرتاویں نہ

نیڑے نیڑے وس ڈھولا

دُور دُور، جاویں نہ

اکھیاں نوں رہن دے

اکھیاں دے کول کول

چن پردیسیا

بول پانویں نہ بول”

“اکھیاں نوں رہن دے”


دیکھ سُوکھے ہوئے ہونٹوں پہ

تیرے مرمریں لبوں کی حدت کے

تڑپتے لمس گُنگناتے ہیں

جب جب میری آنکھیں

تیری تصویر تکتی ہیں

کچھ آنسو، چپکے سے

پلکوں پہ جھلملاتے ہیں

شامِ الم کی وحشتناک تنہائی میں

تیری یاد کے گلستاں

اتر کر نیم وا دریچوں میں

خوشبو بھرے اقرار کے

لمحے مہکاتے ہیں

اور

رات کے آخر پہروں میں

نیند کی لہروں میں بھی

دل میں تہجد کی اذاں گونجتی ہے

اور

میرے لب تمہارے نام کی تسبیح کرتے

سرگوشی بھری دعاؤں میں

پھڑپھڑاتے ہیں


فیصل ملک


٭شروع میں جو پنجابی کلام ہے اس کے شاعر راحت کاظمی ہیں۔

No comments:

Post a Comment