Thursday, 14 January 2021

شاعری بھی بارش ہے

 شاعری بھی بارش ہے

جب برسنے لگتی ہے

سوچ کی زمینوں کو رنگ بخش دیتی ہے

لفظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے

نت نئے خیالوں کی کونپلیں نکلتی ہیں

اور پھر روانی پر یوں بہار آتی ہے

جیسے ٹھوس پربت سے

گنگناتی وادی میں

آبشار آتی ہے

٭

شاعری بھی بارش ہے

ان دلوں کی دھرتی پر

غم کی آگ نے جن کو

راکھ میں بدل ڈالا

ذہن و دل کا ہر جذبہ

جیسے خاک کر ڈالا

ایسی سرزمینوں پر

بارشیں برسنے سے

فرق کچھ نہیں پڑتا


غزل ناز

No comments:

Post a Comment