کوزہ گروں کو چاک گھمانا نہیں پڑا
میں خود بنا، کسی کو بنانا نہیں پڑا
کل شب ہوا نے میرا اشارہ سمجھ لیا
اٹھ کر مجھے چراغ بجھانا نہیں پڑا
آنکھوں نے کچھ نیا بھی دکھانا نہیں مجھے
اور خواب ان میں کوئی پرانا نہیں پڑا
رختِ سفر کو، وقتِ سفر آگ لگ گئی
اچھا ہوا، یہ بوجھ اٹھانا نہیں پڑا
ہم اتفاقِ رائے سے، زندہ بچھڑ گئے
ایک دوسرے کو مر کے دکھانا نہیں پڑا
تیمور ذوالفقار
No comments:
Post a Comment