نمک چھڑکتے ہیں جو اکثر زخموں پر
مٹی ڈالو صاحب! ایسے لوگوں پر
ہم شاید جلدی بوڑھے ہو جائیں گے
کیونکہ بے حد بوجھ ہے اپنے کاندھوں پر
آخر کب تک اُس کا رونا روؤ گے
سوچو تو کیا اثر پڑے گا بچوں پر
مسکراتے چہرے اک دن مر جاتے ہیں
تصویریں رہ جاتی ہیں دیواروں پر
اتنے زیادہ خواب اگر تم دیکھو گے
بھائی صاحب! زور پڑے گا آنکھوں پر
لوگ یہ سارے کس درجہ تکلیف میں ہیں
یار! اب تھوڑا ترس ہی کھا لے بندوں پر
مجھ کو چھوڑ کے اس نے سب کا نام لیا
ہاتھ رکھا جب میں نے اس کی آنکھوں پر
اس کے بچے عشق نہ کر بیٹھیں سو وہ
آیت پڑھ کر دَم کرتی ہے بچوں پر
فضل احمد
No comments:
Post a Comment