اپنا ہی سر پکڑ کے یہ پوچھوں کہ کیا ہوا
اپنی ہی نبض دیکھ کے کہہ دوں، اداس ہوں
میرا سوال یہ ہے کہ میں خوش ہی کب رہا
اس کا سوال یہ ہے کہ میں کیوں اداس ہوں
کوئی تو ہو جو آ کے بتائے؛ اداس ہو
میں خود کو کب تلک یہ بتاؤں اداس ہوں
اے دوست! غم کی شام میں تم بھی نہیں رہے
اور یہ بھی پوچھتے ہو کہ میں کیوں اداس ہوں
ویسے تو خوش مزاج نظر آ رہا ہوں دوست
پر آئینے میں خود کو جو دیکھوں، اداس ہوں
کر لوں ذرا میں عرشِ بریں سے مدد طلب
میں دو رکعت نماز ہی پڑھ لوں، اداس ہوں
شہزاد مہدی
No comments:
Post a Comment