Thursday, 17 December 2020

میں چاہتا ہوں کہ دیکھوں نہ تیرے گھر کی طرف

 میں چاہتا ہوں کہ دیکھوں نہ تیرے گھر کی طرف

نگاہیں خود چلی جاتی ہیں بام و در کی طرف

نگاہِ قلب سے دیکھو مِری نظر کی طرف

چلا ہے ڈوبنے ہر خواب چشمِ تر کی طرف

کسی کا دھیان نہ ہو سختیِ سفر کی طرف

ہر ایک شخص مخاطب ہو راہبر کی طرف

زوال کیا ہے؟ پتا چل گیا ناں سورج کو

بڑے غرور سے نکلا تھا دوپہر کی طرف

کوئی تو ہو کہ جو پوچھے یہ دستِ ظالم سے

یہ سنگ باریاں کیوں شاخِ بے ثمر کی طرف

ہمیں بھی آرزو راغب ہے مال و دولت کی

پہ بھاگتے نہیں ہم لوگ مال و زر کی طرف


افتخار راغب

No comments:

Post a Comment