Thursday, 17 December 2020

کس قیامت کی گھٹن طاری ہے

 کس قیامت کی گھٹن طاری ہے

روح پر کب سے بدن طاری ہے

کون یہ سایہ فگن ہے آخر

میرے سورج پہ گہن طاری ہے

بات کیا اور نئی ہم سوچیں

جب وہی چرخ کہن طاری ہے

صرف ہم ہی تو نہیں ٹوٹے ہیں

راستوں پر بھی تھکن طاری ہے

شاذ اڑتا ہی چلا جاتا ہوں

کیسی خوشبو کی لگن طاری ہے


زکریا شاذ

No comments:

Post a Comment