Thursday, 17 December 2020

گفتگو کیوں نہ کریں دیدہ تر سے بادل

 گفتگو کیوں نہ کریں دیدۂ تر سے بادل

لوٹ آئے ہیں ستاروں کے سفر سے بادل

کیا غضب ناک تھی سورج کی برہنہ شمشیر

کالے مجرم کی طرح نکلے نہ گھر سے بادل

رات کی کوکھ کوئی چاند کہاں سے لائے

یہ زمیں بانجھ ہے برسے کہ نہ برسے بادل

برف سے کہیے کہ سوغات کرے ان کی قبول

لائے ہیں آگ کے دستانے سفر سے بادل

میں کہ ہوں دھوپ کا آزاد پرندہ، لیکن

بال کیوں نوچ رہے ہیں مرے پر سے بادل

آخری خط تو لکھوں گا میں لہو سے خود کو

اب بھی مایوس جو لوٹے ترے در سے بادل

نہ کسی جسم کا جادو، نہ گھٹا گیسو کی

پریم کیوں روٹھ گئے پریم نگر سے بادل


پریم واربرٹنی

No comments:

Post a Comment