دن خوب بھی آنے کو ہیں گویا کہ یہاں اور
آنکھوں میں بندھا لاگے ہے ماجد کی سماں اور
پلّو کسی بیوہ کا، بکھرتی کوئی دھجی
ہاتھوں میں غریبوں کے لہکتے ہیں نشاں اور
لیتے ہوئے لگتی ہے نشانہ مرے دل کا
چہرے پہ مری قوسِ قزح کے ہے کماں اور
راتوں میں جھلکتے ہیں جو دولہوں دلہنوں کے
کچھ روز سے ہیں ذہن میں اپنے بھی گماں اور
یہ حزبِ مخالف ہے کہ انبوہِ حریصاں
گویائی سے اپنی جو کرے اپنا زیاں اور
بجلی جو گئی ہے تو غزل ہونے لگی ہے
'رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور'
یاور ہی سے ممکن ہے جو ہو پائے کبھی تو
ماجد تری غزلوں سی غزل کوئی کہاں اور
ماجد صدیقی
No comments:
Post a Comment