Thursday, 17 December 2020

مایوسی میں دل بے چارا صدیوں سے

 مایوسی میں دل بے چارا صدیوں سے

ڈھونڈ رہا ہے ایک سہارا صدیوں سے

ایک ہی بات عبث دہرائے جاتا ہے

تن میں چلتا سانس کا آرا صدیوں سے

ہیر اگرچہ میں نے اپنی پا لی ہے

ڈھونڈ رہا ہوں تخت ہزارا صدیوں سے

تم سے کیسے سمٹے گا یہ لمحوں میں

دل اپنا ہے پارا پارا صدیوں سے💗

کس اعلان کو گونج رہا ہے نس نس میں

دھڑکن دھڑکن اک نقارا صدیوں سے

کوئی منزل، عشق میں کوئی کام ملے

دل آوارہ، ہے ناکارا صدیوں سے💞

دل پر کیا ہم نے تو جاناں! جان پہ بھی

لکھ رکھا ہے نام تمہارا صدیوں سے

اس نے دل کے درد سے پوچھا کب سے ہو

دل سے اٹھ کے درد پکارا صدیوں سے

خشک پڑا ہے آنکھ کے پردے پر طاہر

بحرِ درد کا ایک کنارا صدیوں سے


طاہر عدیم

No comments:

Post a Comment