Thursday, 17 December 2020

کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤں

 کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤں 

مرے لیے کوئی آنسو کھلے تو رک جاؤں 

میں اس کے سائے میں یوں تو ٹھہر نہیں سکتا 

اداس پیڑ کا پتا ہلے تو رک جاؤں 

کبھی پلک پہ ستارے کبھی لبوں پہ گلاب 

اگر نہ ختم ہوں یہ سلسلے تو رک جاؤں 

وہ ایک ربط جو اتنا بڑھا کہ ٹوٹ گیا 

سمٹ کے جوڑ دے یہ فاصلے تو رک جاؤں 

بہت طویل اندھیروں کا ہے سفر طاہر

کہیں جو دھوپ کا سایہ ملے تو رک جاؤں 


طاہر فراز

No comments:

Post a Comment