گناہ گار ہوں یا رب عذاب نازل کر
نہیں تو بے گناہی کا ثواب نازل کر
کتاب دے کے جو بھیجے ہیں تُو نے پیغمبر
پیمبرانِ سخن پر کتاب نازل کر
ہمارے دور کے مہوش ادا سے باغی ہیں
تو کوئی آیتِ شرم و حجاب نازل کر
ہے ایک زمانے سے کشتِ سخن میری تشنہ
تُو اس پہ عقل و فراست کا آب نازل کر
ہمارا علم جہالت کی وادیوں میں گم ہے
ہمارے ذہنوں پہ تازہ نصاب نازل کر
ہمارے دل سے گناہوں کےداغ سب دھو دے
اگر یہ دُھل نہیں سکتے عتاب نازل کر
میں منتظر ہوں جزا و سزا کا یوں کب سے
میرے وجود پہ روزِ حساب نازل کر
ضیاء الحق قاسمی
No comments:
Post a Comment