Saturday, 19 December 2020

اپنا جب بوجھ مری جان اٹھانا پڑ جائے

 اپنا جب بوجھ مری جان اٹھانا پڑ جائے

دوسروں کا نہ کچھ احسان اٹھانا پڑ جائے

اس قدر عیش محبت پہ نہ ہو خوش کہ تجھے

دوسرے عشق میں نقصان اٹھانا پڑ جائے

اس سرائے میں نہ پھیلائیے اجزائے حیات

جانے کس وقت یہ سامان اٹھانا پڑ جائے

یوں نہ ہو بول پڑوں میں تری خاموشی پر

اور تجھے بزم سے مہمان اٹھانا پڑ جائے

پھر بدل جائے نہ اس وعدۂ امروز سے تو

اور ہمیں دوسرا طوفان اٹھانا پڑ جائے

کیا تماشا ہو سر کوچۂ دلدار اگر؟

میرے جیسا کوئی نادان اٹھانا پڑ جائے

میں تو مر جاؤں اسی وقت اگر مجھ کو جمال

عشق سے ہاتھ کسی آن اٹھانا پڑ جائے


جمال احسانی

No comments:

Post a Comment