Monday, 19 July 2021

زمین بیچ کے تارے بسانا چاہتے ہیں

 زمین بیچ کے تارے بسانا چاہتے ہیں

یہ کون لوگ خلاؤں میں جانا چاہتے ہیں

کبھی وہ شعر کہا کرتا تھا ہمارے لیے

ہم اس کے شعر اسی کو سنانا چاہتے ہیں

وہ چاہے جھوٹ میں اقرار تو کرے اک بار

ہم اس کے جھوٹ پہ ایمان لانا چاہتے ہیں

ہم اس کی آنکھ میں رہ کر بھی آنسوؤں میں رہے

جسے ہم اپنی رگوں میں سمانا چاہتے ہیں

ہمیں خبر ہے یہ دنیا تباہ کر دیں گے

ہم ایسے لوگوں کا شجرہ بتانا چاہتے ہیں

یہ دوست دوست نہیں ہیں یہ دل کے کالے لوگ

منافقین ہمیں آزمانا چاہتے ہیں

ہمارے نام پہ سانسوں کو تھامنے والے

ہمارے خواب بھی بشریٰ بھلانا چاہتے ہیں


بشریٰ بختیار

No comments:

Post a Comment