دنیا والوں کو تیرے خواب جو آنے لگ جائیں
شام ہوتے ہی سبھی خود کو سُلانے لگ جائیں
کاش ان عشق کے کتبوں پہ ہوں کَندہ ہم لوگ
کاش اس عشق میں ہم لوگ ٹھکانے لگ جائیں
کیا اندھیرا ہی اندھیرا ہے زمیں کے اندر
کیا چراغوں کو تہِ خاک دبانے لگ جائیں
پھر ہو جائے ان آنکھوں سے تصادم اے کاش
پھر سے ایک وہی زخم پُرانے لگ جائیں
اب بھی موقع ہے میری مانئے دیوار کے ساتھ
رات یہ مجھ سے کہا میری وفا نے؛ لگ جائیں
آیتوں جیسے خد و خال کو چلمن ہی میں رکھ
یہ نہ ہو لوگ تیری قسمیں اُٹھانے لگ جائیں
ندیم ناجد
No comments:
Post a Comment