Saturday, 24 April 2021

ہمارے نقش بناؤ بہت اداسی ہے

 ہمارے نقش بناؤ بہت اُداسی ہے

اُداسیوں کو بُلاؤ بہت اداسی ہے

سُنا ہے خواب دکھانے میں آپ ماہر ہو

ہمیں بھی خواب دکھاؤ بہت اداسی ہے

بہت اداسی مِری جان ہی نہ لے جائے

مِرے ہی شعر سناؤ بہت اداسی ہے

کسی سے دل نہ لگانے کی بات اپنی جگہ

کسی سے ہاتھ ملاؤ بہت اداسی ہے

وہ شخص شہر میں آئے تو دل بہلتا ہے

ذرا اُسے تو بُلاؤ بہت اداسی ہے

یہ زندگی نے ہمیں بار ہا کہا بشریٰ

ہمیں بھی سینے لگاؤ بہت اداسی ہے


بشریٰ بختیار

No comments:

Post a Comment