Saturday, 24 April 2021

ہر درد کے ہر غم کے طلبگار ہمیں ہیں

 ہر درد کے ہر غم کے طلب گار ہمیں ہیں

اس جنس گرامی کے خریدار ہمیں ہیں

دنیا میں جفاؤں کے سزاوار ہمیں ہیں

ممتاز بہر حال گناہ گار ہمیں ہیں

جو عشق میں گزری ہے سو گزری ہے ہمیں پر

آوارہ و رُسوا سرِ بازار ہمیں ہیں

اب کون کرے روز نئی ان سے شکایت

اچھا چلو تسلیم، جفا کار ہمیں ہیں

ممتاز جو نازاں ہیں بہت تشنہ لبی پر 

کہہ دے کوئی ساقی سے وہ میخوار ہمیں ہیں


ممتاز میرزا

No comments:

Post a Comment