Saturday, 24 April 2021

کام اتنے ہیں کہ بھرمار لگی رہتی ہے

کام اتنے ہیں کہ بھرمار لگی رہتی ہے

اور دل ہے اسے اتوار لگی رہتی ہے

ڈھول بجتے ہیں کئی شوق نگر کے اندر

مستئ رقص لگا تار لگی رہتی ہے

ایک غازے یا کسی سرخئ خوباں جیسی

میرے منہ پر کوئی مقدار لگی رہتی ہے

پیڑ بھی کوئی نہیں سامنے والے گھر میں

پر وہاں شاخ ثمر بار لگی رہتی ہے

شہر میں اور بھی لاکھوں ہیں پہ دم سے تیرے

صاحبا!! رونقِ بازار لگی رہتی ہے

بے سبب تو نہیں ناصر علی یہ آرائش

زینتِ یارِ سمجھدار لگی رہتی ہے


ناصر علی 

No comments:

Post a Comment