کام اتنے ہیں کہ بھرمار لگی رہتی ہے
اور دل ہے اسے اتوار لگی رہتی ہے
ڈھول بجتے ہیں کئی شوق نگر کے اندر
مستئ رقص لگا تار لگی رہتی ہے
ایک غازے یا کسی سرخئ خوباں جیسی
میرے منہ پر کوئی مقدار لگی رہتی ہے
پیڑ بھی کوئی نہیں سامنے والے گھر میں
پر وہاں شاخ ثمر بار لگی رہتی ہے
شہر میں اور بھی لاکھوں ہیں پہ دم سے تیرے
صاحبا!! رونقِ بازار لگی رہتی ہے
بے سبب تو نہیں ناصر علی یہ آرائش
زینتِ یارِ سمجھدار لگی رہتی ہے
ناصر علی
No comments:
Post a Comment