Saturday, 24 April 2021

سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں

 سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں

میں کسی موڑ پہ دم لینے کو ٹھہرا ہی نہیں

خشک ہونٹوں کے تصور سے لرزنے والو

تم نے تپتا ہوا صحرا کبھی دیکھا ہی نہیں

اب تو ہر بات پہ ہنسنے کی طرح ہنستا ہوں

ایسا لگتا ہے مِرا دل کبھی ٹوٹا ہی نہیں

میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبی

تُو وہ بادل جو کبھی ٹُوٹ کے برسا ہی نہیں

ایسی ویرانی تھی در پہ کہ سبھی کانپ گئے

اور کسی نے پسِ دیوار تو دیکھا ہی نہیں

مجھ سے ملتی ہی نہیں ہے کبھی ملنے کی طرح

زندگی سے مِرا جیسے کوئی رشتہ ہی نہیں


سلطان اختر

No comments:

Post a Comment