حاصل بھی کوئی چاہیے ہستی اُجاڑ کر
اب گفتگو جو ہو تو گریبان پھاڑ کر
محفل میں جائیو نہ دیوانوں کی شوخ تن
ہلکان کر رکھیں گے تمہیں تاڑ تاڑ کر
شب بھر میں حسرتوں کا گلا گھونٹتا رہا
کروٹ وہ لے کے سو لیے خود چھیڑ چھاڑ کر
ٹھہرو، ذرا بلائیں تو لے لوں شباب کی
جاتے کہاں ہو قبر میں خنجر کو گاڑ کر
غیر آئے، آ کے لڑ پڑے، کیا تم نے کر لیا
ڈنکے کی چوٹ پر گئے سب تم کو تاڑ کر
کیوں وقتِ قتل چہرے سے رنگ آپ کے اُڑے
تصویر اپنی دیکھ لی کیا سینہ پھاڑ کر؟
اشعار حمزہ کے جو سنے تو کہا کہ بس
"کمبخت رکھے گا میرے بچے بگاڑ کر"
حمزہ عمران
No comments:
Post a Comment