Thursday, 2 December 2021

خاموش محبت ہے تماشا نہیں کرتے

 خاموش محبت ہے، تماشا نہیں کرتے

ہم صاف طبیعت ہیں دکھاوا نہیں کرتے

بس تیری محبت کے طلبگار رہے ہم

ہر شخص سے چاہت کا تقاضا نہیں کرتے

ہم عہدِ وفا کرکے نبھاتے بھی ہیں ہر طور،

ہم دیکھ کے حالات کو پلٹا نہیں کرتے

ہم چھوڑ کے میدانِ عمل جا نہیں سکتے

پُرکھوں کی روایات کو میلا نہیں کرتے

ہم رسم، رواجوں کے نگہبان ازل سے

بازار میں جذبات کو بیچا نہیں کرتے

تم لاکھ کرو ہم پہ ستم، ہو جو ستمگر

ہم صبر کے پیکر کبھی ایسا نہیں کرتے

تم اور تمہاری یہ محبت ہے تماشا

غیروں سے بھی ملتے ہو تم اچھا نہیں کرتے

تم لاکھ لکھو اُس کو فقیر اپنا تعارف

ہر بار کہیں گے، اُسے اپنا نہیں کرتے


فقیر دانیال بیگ 

دانیال بیگ دانی

No comments:

Post a Comment