Saturday, 14 November 2020

چراغ ایسے ہواؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

 چراغ ایسے ہواؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

فقیر جیسے سراؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

لگا کے مہر کو اک صبح کے تعاقب میں

یہ چاند تارے خلاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

ابھی شجر تو مکمل کٹا نہیں ہے ناں

تنے کی ادھ موئی چھاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

سفر کے طول و خطر کا بہانہ اچھا ہے

بہانہ ساز کے گاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

یہ کیا کہا تمہیں کرنی ہے سیر جنت کی؟

تو ماں کے پاس ہی پاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

تپش میں دھوپ کی رزاق پر توکل دیکھ

پرند پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

ہماری جنس ہے خوشبو، ہمیں گلوں سے کیا

کہ ہم بکھر کے فضاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

بہار رُت میں تو ہم پر بہار آئی نہیں

ذرا سی دیر خزاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں


مزمل شاہ

No comments:

Post a Comment