چراغ ایسے ہواؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
فقیر جیسے سراؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
لگا کے مہر کو اک صبح کے تعاقب میں
یہ چاند تارے خلاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
ابھی شجر تو مکمل کٹا نہیں ہے ناں
تنے کی ادھ موئی چھاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
سفر کے طول و خطر کا بہانہ اچھا ہے
بہانہ ساز کے گاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
یہ کیا کہا تمہیں کرنی ہے سیر جنت کی؟
تو ماں کے پاس ہی پاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
تپش میں دھوپ کی رزاق پر توکل دیکھ
پرند پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
ہماری جنس ہے خوشبو، ہمیں گلوں سے کیا
کہ ہم بکھر کے فضاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
بہار رُت میں تو ہم پر بہار آئی نہیں
ذرا سی دیر خزاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
مزمل شاہ
No comments:
Post a Comment