جدائی لکھی جا چکی ہے
میں چاہتی ہوں
نیم سرد رات ہو
ادھ کھلی کھڑکی سے چودھویں کا چاند جھلک دکھلائے
تو کبھی بدلی کی اوٹ میں چھپ جائے
ہوا کا سرد جھونکا مجھے بہت دور میرے بچپن میں لے جائے
جہاں خوشیاں رقص کرتی تھیں
سکھیاں سنگ ہنستی تھیں
میرا جھولا آسمان چومتا تھا
خوشیوں کی چڑیاں کمرے میں بسیرا کر لیا کرتی تھیں
خزاں دبے پاؤں گزر جایا کرتی
صدیاں بیت گئی
آسمان نے کُہرے کی چادر اوڑھ لی ہے
ہوا کا جھونکا بے حد سرد ہے
لوٹ کر صدا آتی ہی نہیں
جدائی لکھی جا چکی ہے
پتے پھول بن کر ٹہنیوں سے جدا ہو چکے ہیں
نورین احمد
No comments:
Post a Comment