Saturday, 14 November 2020

جدائی لکھی جا چکی ہے

 جدائی لکھی جا چکی ہے


میں چاہتی ہوں

نیم سرد رات ہو

ادھ کھلی کھڑکی سے چودھویں کا چاند جھلک دکھلائے

تو کبھی بدلی کی اوٹ میں چھپ جائے

ہوا کا سرد جھونکا مجھے بہت دور میرے بچپن میں لے جائے

جہاں خوشیاں رقص کرتی تھیں

سکھیاں سنگ ہنستی تھیں

میرا جھولا آسمان چومتا تھا

خوشیوں کی چڑیاں کمرے میں بسیرا کر لیا کرتی تھیں

خزاں دبے پاؤں گزر جایا کرتی

صدیاں بیت گئی

آسمان نے کُہرے کی چادر اوڑھ لی ہے

ہوا کا جھونکا بے حد سرد ہے

لوٹ کر صدا آتی ہی نہیں

جدائی لکھی جا چکی ہے

پتے پھول بن کر ٹہنیوں سے جدا ہو چکے ہیں


نورین احمد

No comments:

Post a Comment