تپتی یادوں میں اک یاد سہانی ہوتی تھی
جلتی راتوں میں اک رات کی رانی ہوتی تھی
اب میں بھولتا جاتا ہوں سب کچھ، یاد بھی کیوں رکھوں
پہلے تو ہر بات تجھے بتلانی ہوتی تھی
اب میں بن شکوہ سب کچھ ماننے لگتا ہوں
نہیں رہا جس اپنی کو منوانی ہوتی تھی
میرے لب پر آ کر وصل بھی ماتم ہوتا تھا
غزل کے پیرائے میں نوحہ خوانی ہوتی تھی
یاد ہے تجھ کو عقل تو جب آتی تھی سمجھنے
اور تجھے ہر بار منہ کی کھانی ہوتی تھی
یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہتے تھے سب دوست
بیچ میں مجھ کو بات تیری تو لانی ہوتی تھی
میرے لفظوں کا ہر مطلب تم پہ کھلتا تھا
تم سے کچھ بھی کہنے کی آسانی ہوتی تھی
آج اس کو تم گناہ کہو یا خطا کہو تم لیکن
اول اول یہ میری نادانی ہوتی تھی
غزل میں اس کو گایا لیکن صیغہ ماضی میں
حال کے صیغہ میں یہ اجمل گانی ہوتی تھی
اجمل صدیقی
No comments:
Post a Comment