Thursday, 16 September 2021

آداب عاشقی اور شبنم گداز آئینۂ اعتبار ہے

 آدابِ عاشقی اور شبنم گداز آئینۂ اعتبار ہے

چراغِ راہ جل اٹھے، یہ کس کا انتظار ہے

روح سرشار ہے اور چشمِ تخیل بیدار ہے

فطرتِ خیال و خواب میں جو قرار ہے

کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا

دشوار راہِ وفا دل آئینہ پہ سنہرا غبار ہے

شیوۂ حسن فطرت ذہن کے ایوان میں شرار

گلچیں گلوں میں حسن، چمن میں بہار ہے

قافلۂ نوبہار تمام خلق کا خدمت گزار ہے

طارق بزمِ فصلِ نمو میں پروردگار ہے


طارق سعید

No comments:

Post a Comment