جو یوں مقتل سنوارا جا رہا ہے
تو کس جانب اشارہ جا رہا ہے
سزا سُولی پہ کب تک جھولنا ہے
ہمیں کب تک اُتارا جا رہا ہے
مِری قسمت میں آخر کیا لکھا ہے
مجھے پھر سے پکارا جا رہا ہے
اگرچہ شب تمہاری ہو گئی ہے
مگر یہ دن ہمارا جا رہا ہے
وہی رفعت وہی آتش بجانی
زمیں پر اک ستارا جا رہا ہے
زمیں اک تیرتی ناؤ کی صورت
سمندر ایک دھارا جا رہا ہے
وہی سر پیٹتی اک موجِ برہم
وہی دریا کنارا جا رہا ہے
جسے ہر حال میں بس جیتنا تھا
وہ اپنی جنگ ہارا جا رہا ہے
اٹھو، اب قافلے چلنے لگے ہیں
چلو، اب شہر سارا جا رہا ہے
رانا غضنفر عباس
No comments:
Post a Comment