Tuesday, 11 January 2022

گھر نہ در کچھ نہیں رہا محفوظ

 گھر نہ در کچھ نہیں رہا محفوظ

ہے غنیمت کہ سر رہا محفوظ

لٹ گیا دل تو کیا رہا محفوظ

ان کا غم میرا حوصلہ محفوظ

عشق پیہم سے چشم پر نم سے

کوئی دنیا میں کب رہا محفوظ

ہم کو منکر نہ تو سمجھ واعظ

دل میں ہر سمت ہے خدا محفوظ

آپ پر مٹ کے ہم رہے گمنام

آپ کی ہر ادا ادا محفوظ

بار بار ان کے در پہ جانے سے

فاصلوں نے ہمیں رکھا محفوظ

اب کی کیسی چلی یہ باد سموم

جان محفوظ نہ ردا محفوظ

آج اک جام خاص میرے نام

میرے ساقی نے رکھ لیا محفوظ

ٹوٹ کر ہم بکھر گئے ہوتے

جو نہ رکھتے یہ حوصلہ محفوظ

ہر ہزیمت کے بعد فرزانہ

دل بچارہ کہاں رہا محفوظ


فرزانہ اعجاز

No comments:

Post a Comment