سوز ہے دل کے گلستان پہ گہرا اب تک
درد کے ویراں کھنڈر میں ہے یہ صحرا اب تک
رات گہری ہے، مگر چاند چمکتا ہے ابھی
پہلی ہجرت کا نہیں بھولا میں قصہ اب تک
میرے سینے میں دھڑکتا ہے ابھی اس کا نام
رشتۂ زیست ہے اس شخص سے گہرا اب تک
حسرتِ جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
میری آنکھوں میں سماں ہے وہ سنہرا اب تک
وحشتِ دل سرِ بازار لیے پھرتی ہے
دے رہا ہے یہ جہاں حسب پہ پہرا اب تک
جو تِری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
سنسنی خیز سا ہے دیکھو یہ صحرا اب تک
کسی صورت سے نہیں جاں کو قرار اے طارق
کوئی بادل نہ وفا کا ہوا گہرا اب تک
طارق سعید
No comments:
Post a Comment