نیل گگن میں بہتا سورج جب زلفیں بکھرا لے گا
کانچ کے ٹکرے چننے والا اک تصویر بنا لے گا
گھمر گھمر یہ کاٹھ کا چرخہ کتنے کج بل ڈالے گا
ریشم دھاگا تل پر آ کر ہر گتھی سلجھا لے گا
صحرا صحرا گھومنے والی، تیز ہوا کا جھونکا بھی
اک دن تیرا روپ چُرا کر اپنا شہر بسا لے گا
چور نجر سے دیکھنے والے کھل کر اوٹ سے باہر آ
بھید بھری اس رین سے کوئی کتنے بھید چرا لے گا
جلتی آنکھ کا درپن لے کر خواب گلی میں اترا ہے
بہتے عکس کا پیچھا کرتے اپنا آپ گنوا لے گا
کس آنگن کی پھلواری میں چمپا تیرے پھول کھلے
مست ہوا کا بے خود جھونکا خود ہی کھوج لگا لے گا
رانا غضنفر عباس
No comments:
Post a Comment