Sunday, 6 February 2022

نیل گگن میں بہتا سورج جب زلفیں بکھرا لے گا

 نیل گگن میں بہتا سورج جب زلفیں بکھرا لے گا 

کانچ کے ٹکرے چننے والا اک تصویر بنا لے گا 

گھمر گھمر یہ کاٹھ کا چرخہ کتنے کج بل ڈالے گا 

ریشم دھاگا تل پر آ کر ہر گتھی سلجھا لے گا

صحرا صحرا گھومنے والی، تیز ہوا کا جھونکا بھی

اک دن تیرا روپ چُرا کر اپنا شہر بسا لے گا

چور نجر سے دیکھنے والے کھل کر اوٹ سے باہر آ 

بھید بھری اس رین سے کوئی کتنے بھید چرا لے گا

جلتی آنکھ کا درپن لے کر خواب گلی میں اترا ہے

بہتے عکس کا پیچھا کرتے اپنا آپ گنوا لے گا

کس آنگن کی پھلواری میں چمپا تیرے پھول کھلے 

مست ہوا کا بے خود جھونکا خود ہی کھوج لگا لے گا


رانا غضنفر عباس

No comments:

Post a Comment