کل آج اور کل
عہد جوانی میں دیکھے تھے ایسے ایسے خواب سہانے
ان خوابوں میں ہم لکھتے تھے اکثر خوشیوں کے افسانے
ایک نئی دنیا کی کہانی ایک نئی دنیا کے ترانے
ایسی دنیا جس میں کوئی بھوک نہ جھیلے دکھ نہ جانے
ہم سمجھے تھے سب نے دیکھے اس دھرتی کے درد انجانے
ہم سمجھے تھے سب نکلیں گے غربت کے سب پاپ مٹانے
ایک طرف تھی جنتا ساری ایک طرف تھے چند گھرانے
ایک طرف تھے بھوکے ننگے ایک طرف قاروں کے خزانے
ایک طرف تھیں مائیں بہنیں ایک طرف تحصیل اور تھانے
ایک طرف تھی تیسری دنیا ایک طرف بے داد پرانے
ایک طرف سچل اور باہو ایک طرف ملا اور مسلک
ایک طرف تھے ہیر اور رانجھا ایک طرف قاضی اور چوچک
ایک طرف امرت کے دھارے ایک طرف تھے دھارے بھس کے
ساری دنیا پوچھ رہی تھی بولو! اب تم ساتھ ہو کس کے
ہم یہ باور کر بیٹھے تھے سب ساتھی ہیں مزدوروں کے
سب ساتھی ہیں محکوموں کے سب ساتھی ہیں مجبوروں کے
چی نے جب اک جست لگائی ہم بھی اس کے ساتھ چلے تھے
چُو نے جب آواز اٹھائی ہاتھ میں ڈالے ہاتھ چلے تھے
اک دوجے کے سب تھے ساتھی اک دوجے کے سب تھے بھائی
اسی ایک خیال کے باعث ہم میں بھی تو ہمت آئی
مذہب کی تفریق نہیں تھی اور ہم سارے ایک ہوئے تھے
دنیا بھر کے سارے بے کس غم کے مارے ایک ہوئے تھے
سوچا تھا ہم مل کر سارے دنیا کو تبدیل کریں گے
دکھ اور درد کی یہ مسافت طے ہم میل ہا میل کریں گے
سب بھائیوں کی سوچ تھی یکساں ہاتھ میں ڈالے ہاتھ کھڑے تھے
سُولی کو کچھ چُوم چکے تھے سُولی کے کچھ ساتھ کھڑے تھے
آنکھوں میں سب خواب تھے روشن ہاتھوں میں امید کا پرچم
دنیا ساری مُٹھی میں تھی لب پہ ترانہ، مدھم، مدھم
قدم سے اپنے قدم ملا کر ابھی مسافت طے کرنا تھی
محکومی کے گیت میں ہم نے آزادی کی لے بھرنا تھی
نیا سویرا آنے کو تھا رات اندھیری جانے کو تھی
آزادی، اور آزادی بھی تیری میری، آنے کو تھی
گرتی ہوئی دیوار کا لوگو باقی نہ تھا کوئی سہارا
لگنے کو تھا ایک ہی دھکا ملنے پر بس ایک اشارا
لیکن ہم تو بکھر رہے تھے اور ہم کو احساس نہیں تھا
خواب ادھورے بھی رہتے ہیں اس کا ہم کو پاس نہیں تھا
علم و ہنر کو چھوڑ کے ہم نے اپنے اپنے مسلک پالے
رنگ و نسب، تہذیب اور مذہب کیا کیا آپ تفرقے پالے
ہم میں جس پل پھوٹ پڑی تو پل بھر میں یہ دنیا بدلی
پل بھر میں ہر دشمنِ جاں نے پتھر چن چن جھولی بھر لی
مذہب کی اس جنگ نے لوگوں ہم کو بھی ناشاد کیا ہے
جیون کو کیا جیون دیں گے خوابوں کو برباد کیا ہے
جس بستی میں مسلم بچے جس بستی میں مسلم مائیں
اس بستی پہ بم گرتے ہیں اس بستی میں کیسے جائیں
اس جانب کنکر اور لڑکے اس جانب ہیں بھاری بکتر
خلقت ہو گئی بے گھر ساری بستی ساری کھنڈر کھنڈر
دیکھو دیکھو کتنے بیٹے سرینگر میں کھیت ہوئے ہیں
دیکھو دیکھو کتنے بھائی جھیل کی خونی ریت ہوئے ہیں
ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہے جنگ کرنے ہر فوج کھڑی ہے
مذہب اور تہذیب کے بل پر قوم سے دیکھو قوم لڑی ہے
ایک مہذب قوم کو دیکھو خود ہم نے بدنام کیا ہے
باقی جو کچھ بچا تھا اس کا غیروں نے وہ تمام کیا ہے
دنیا کی تاریخ گواہ ہے عدل بنا جمہور نہ ہو گا
عدل ہوا تو دیس ہمارا کبھی بھی چکنا چور نہ ہو گا
عدل بنا کمزور ادارے عدل بنا کمزور اکائیاں
عدل بنا بے بس ہر شہری عدل بنا ہر سمت دھائیاں
دنیا کی تاریخ میں سوچو کب کوئی منصف قید ہوا ہے
آمر کی اپنی ہی انا سے عدل یہاں ناپید ہوا ہے
یوں لگتا ہے ایک ہی طاقت ارض خدا پر گھوم رہی ہے
یوں لگتا ہے ہر اک قوت پاؤں اس کے چُوم رہی ہے
اس کی بمباری کے باعث خوں میں سب لبریز ہوئے ہیں
مذہب میں شدت آئی ہے خودکش جنگجو تیز ہوئے ہیں
وقت کی دیوی سوچ میں گم ہے غم میں اس کے بال کھلے ہیں
سوال ہزاروں، جواب ندارد اندیشوں نے جال بُنے ہیں
عالمگیریت کا غلبہ تیسری دنیا پر چھایا ہے
اپنی آزادی کا موسم کب آیا تھا، کب آیا ہے
کیسے کیسے زخم لگے ہیں دہشتگردی کے ہاتھوں سے
کب جا کر یہ خون دُھلے گا اپنے بیٹوں کے ماتھوں سے
محنت کش نے جس جنت کا دیکھا تھا ایک سندر سپنا
کب وہ خواب بنے گا آخر مستقبل اس حال میں اپنا
فوجی لشکر تب تک اپنے گھر میں یوں مہمان رہیں گے
مُلا مسلک کے جھگڑوں میں کب تک اسلحہ تان رہیں گے
ٹوٹ گئے جو خواب تو ہم سے ایک حقیقت بول پڑی ہے
اندر کے جمہور کی طاقت سب دروازے کھول کھڑی ہے
عدل کے ایوانوں میں سن لو اصلی منصف پھر آئیں گے
روٹی، کپڑا ور گھر اپنا جنتا کو ہم دلوائیں گے
آٹا بجلی پانی ایندھن سب کو سستے دام ملیں گا
بے روزگاروں کو ہر ممکن روزگار اور کام ملے گا
ریاست ہو گی ماں کے جیسی ہر شہری سے پیار کرے گی
فوج لگے گی سب کو اچھی جب سرحد کے پاس رہے گی
محمد علی جناح نے لوگو دیکھا تھا جو سپنا سب کا
ساری دنیا پر اب ہو گا سایہ ایک اور ایک ہی رب کا
وہ رب سانجھا، وہ رب سچا ہر مذہب، ہر دھرم کا رب ہے
مسلم، ہندو، سکھ، عیسائی ہر انسان پہ کرم کا رب ہے
سانجھا مالک، سانجھا خالق اس کے در پہ سب حاصل ہے
عدم تشدد اس کا رستہ امن ہمارا مستقبل ہے
جاؤ جاؤ سب سے کہہ دو اپنے سر اب جھک نہیں سکتے
جاؤ جاؤ سب سے کہہ دو قدم ہمارے اب رک نہیں سکتے
ظالم اور غاصب کی دشمن جنتا ہم سے عہد کرے گی
مظلوموں کی آخر وہ ہی جاری جد و جہد رہے گی
رستہ تھوڑا ہی باقی ہے دیکھو دیکھو وہ منزل ہے
ظالم ڈر کے بھاگ رہا ہے جیت ہمارا مستقبل ہے
اعتزاز احسن
No comments:
Post a Comment