اے مِرے جادوگر
کھوپڑی کو گھما اپنے ہاتھوں میں اور کوئی چکر چلا
جھاڑ دے اپنے سارے طلسمات سے گرد کو
یاد کر وہ بھی منتر جو اب تک نہیں پھونک پایا ہے تو
کاٹ چلہ کوئی
اپنا جلوہ دکھا
اے مرے چارہ گر
ہسپتالوں میں بھر دے تُو ایسا دھواں جس سے رکتا تنفس رواں ہو
پھیپھڑے اپنے معمول کا کام جاری رکھیں
اس پری زاد کے ہاتھ میرے لبوں اور چہرے کو مس کر سکیں
پھر سے خیموں میں سب مشعلیں جل سکیں
لوگ اپنے لعاب دہن سے بھی اپنی رقم گن سکیں
کوئی تدبیر کر
رابطہ کر خدا سے بھلے رانگ نمبر ملا
اے مرے جادوگر
فیصل خیام
No comments:
Post a Comment