عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
معصیّت کُفر کی دنیا سے مٹانے والے
نُورِ توحید سے دل سب کے جِلانے والے
خوابِ غفلت سے ہمیں آ کے جگانے والے
کیا ہے شر اور ہے کیا خیر بتانے والے
سرورِ دیں تِریؐ آمد ہے بہاروں کی نوید
پھول ویرانۂ ہستی میں کِھلانے والے
جاں فزا ایک تبسّم ہی تِراﷺ کافی ہے
دل سے دنیا کے سبھی رنج، مٹانے والے
وردِ لب آپﷺ کا ہو اسمِ گرامی ہر دم
راہِ حق پر ہمہ تن ہم کو چلانے والے
سایۂ گنبدِ خضرا میں کھڑے ہو کر ہم
نعت اک اُن کی، اُنہی کو ہیں سنانے والے
مَدح و توصیف کا حق ہم سے ادا ہو کیسے
وصف اُنؐ کے نہیں لفظوں میں سمانے والے
ان گنت آپﷺ کے احساں ہیں بنی آدم پر
حشر میں نارِ جہنم سے بچانے والے
رحمتِ ربِ دو عالم تجھے ڈھانپے گی مُدام
شہﷺ کی آواز میں آواز ملانے، والے
وہ تِرے سارے دکھوں کا ہیں مداوا لاریب
حُبِ سرکار دل و جاں میں بسانے والے
آرزوۓ دلِ عشّاق ہے، دیدِ سرورﷺ
جستجو میں بھی اُنہی کے ہیں زمانے والے
اُن کے کوچے میں لیے دیدۂ نم پھرتے ہیں
شہرِ محبوب سے عاشق نہیں جانے والے
آپﷺ کی سیرت و کردار کو مانے دنیا
تیرگی، شرک و جہالت کی مٹانے والے
پھر وداع ہونے کو ہیں آپؐ کے دربار سے ہم
بارِ غم ، پھر ہیں جدائی کا اُٹھانے والے
امن کا نام ہے اسلام جہاں میں زینب
اب اسی میں ہی پنہ لیں گے زمانے والے
سیدہ زینب سروری قادری
No comments:
Post a Comment