Wednesday, 9 June 2021

کاش میں تجھ کو کوئی شام سہانی دیتا

 کاش میں تجھ کو کوئی شام سہانی دیتا

اپنی ناکام محبت کی نشانی دیتا

میری آنکھوں سے لہو نے بھی ٹپک پڑنا تھا

اپنے اشکوں کو اگر اور روانی دیتا

تیرے اک بال کا صدقہ بھی نہیں تھا جاناں

تجھ پہ گر وار میں اپنی یہ جوانی دیتا

دامن دل میں دعاؤں کے سوا کچھ بھی نہ تھا

پھر بھلا کیسے کوئی چیز نشانی دیتا

سوکھی ٹہنی بھی ہری ہونی تھی اک روز خلیل

تُو اگر روز اسے اشکوں کا پانی دیتا


خلیل احمد

No comments:

Post a Comment