Friday, 11 June 2021

مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے

 مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے

تیرے آنے کا انتظار بھی ہے

تُو مجھے بے وفا سا لگتا ہے

تیرے وعدے پہ اعتبار بھی ہے

مدتوں بعد سر ہے سجدے میں

بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے

جس نے میرا سکون چھینا ہے

میرا دشمن بھی میرا یار بھی ہے

کس لیے یوں اداس بیٹھے ہو

اپنا گھر بھی ہے کاروبار بھی ہے

تُو بھی کچھ بدلا بدلا سا ہے خلیل

میری آنکھوں میں کچھ خمار بھی ہے


خلیل احمد

No comments:

Post a Comment