Friday, 11 June 2021

بھروسہ توڑ کر یہ زندگی دشوار مت کرنا

 بھروسہ توڑ کر یہ زندگی دشوار مت کرنا

ادھورے گیت مت گانا ادھورا پیار مت کرنا

تمہی ہو زندگی میری تمہی ہو شاعری میری

بچی ان چند سانسوں کو کبھی دشوار مت کرنا

اگر وعدہ کیا ہے پیار کا تو پھر نبھا دینا

کسی کی چاہتوں کو باعثِ آزار مت کرنا

یہاں پر پھولوں جیسے خوشنما کچھ خار بھی تو ہیں

کبھی ایسے گلوں کو تم گلے کا ہار مت کرنا

محبت تو عبادت ہے عبادت ہی اسے رکھنا

کبھی اس جذبہ صادق کا کاروبار مت کرنا

تمہاری بے حسی اس عشق کی توہین ہے عفراء

خدا را اس محبت کو ذلیل و خوار مت کرنا


عفراء بتول سحر

No comments:

Post a Comment