بھروسہ توڑ کر یہ زندگی دشوار مت کرنا
ادھورے گیت مت گانا ادھورا پیار مت کرنا
تمہی ہو زندگی میری تمہی ہو شاعری میری
بچی ان چند سانسوں کو کبھی دشوار مت کرنا
اگر وعدہ کیا ہے پیار کا تو پھر نبھا دینا
کسی کی چاہتوں کو باعثِ آزار مت کرنا
یہاں پر پھولوں جیسے خوشنما کچھ خار بھی تو ہیں
کبھی ایسے گلوں کو تم گلے کا ہار مت کرنا
محبت تو عبادت ہے عبادت ہی اسے رکھنا
کبھی اس جذبہ صادق کا کاروبار مت کرنا
تمہاری بے حسی اس عشق کی توہین ہے عفراء
خدا را اس محبت کو ذلیل و خوار مت کرنا
عفراء بتول سحر
No comments:
Post a Comment