Friday, 11 June 2021

دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں

 دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں

نگاہ شوق کو اب تاب انتظار نہیں

نہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیں

خدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار نہیں

ہمیشہ وعدے کئے اب کے مل ہی جا آ کر

حیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیں

دکھاتی اپنی محبت کو چیر کر سینہ

مگر نمود مِرا شیوہ و شعار نہیں

مِری بہن مِری محبوبہ یہ عجب شے ہے

جہاں میں خاک نہیں کچھ جو دوست وار نہیں


زاہدہ زیدی

No comments:

Post a Comment