Friday, 11 June 2021

محبتوں نے بڑی ہیر پھیر کر دی ہے

 محبتوں نے بڑی ہیر پھیر کر دی ہے

وفا غرور کے قدموں میں ڈھیر کر دی ہے

کٹی ہے رات بڑے اضطراب میں اپنی

تِرِے خیال میں ہم نے سویر کر دی ہے

ہم اہلِ عشق تو برسوں کے مر گئے ہوتے

عروسِ مرگ نے آنے میں دیر کر دی ہے

اٹے ہوئے ہیں فقیروں کے پیرہن کیفی

جہاں نے بھیک میں مٹی بکھیر کر دی ہے


اقبال کیفی

No comments:

Post a Comment