کیسے سمجھے گا بھلا بات کوئی بے گانہ
تن میرا کعبۂ غم، دل ہے میرا مے خانہ
میں بھلا کیوں نہ کروں مدح سرائی اس کی
جس کی توصیف بیاں کرتا ہے دانہ دانہ
تیرے ہاتھوں سے کروں نوش میں ساغر اک دن
اسی امید میں پھرتا ہوں لیے پیمانہ
اپنے جلنے کا سبب جب بھی بتانا چاہا
مر مٹا سمجھے بنا بات میری پروانہ
ڈوب کر عشق کی مستی میں دمِ آخر تک
ہجر کا درد بیان کرتا رہا مستانہ
دُکھ نہ ہوتا وہ اگر جان نہ پاتا مجھ کو
دُکھ ہے وہ جان کے جانا ہے مجھے انجانہ
اس لیے قالبِ اشعار میں غم ڈھالا ہے
لوگ سمجھیں نہ کہیں شمس اسے افسانہ
شمس بلتستانی
No comments:
Post a Comment