Tuesday, 7 September 2021

کیسے سمجھے گا بھلا بات کوئی بیگانہ

 کیسے سمجھے گا بھلا بات کوئی بے گانہ

تن میرا کعبۂ غم، دل ہے میرا مے خانہ

میں بھلا کیوں نہ کروں مدح سرائی اس کی

جس کی توصیف بیاں کرتا ہے دانہ دانہ

تیرے ہاتھوں سے کروں نوش میں ساغر اک دن

اسی امید میں پھرتا ہوں لیے پیمانہ

اپنے جلنے کا سبب جب بھی بتانا چاہا

مر مٹا سمجھے بنا بات میری پروانہ

ڈوب کر عشق کی مستی میں دمِ آخر تک

ہجر کا درد بیان کرتا رہا مستانہ

دُکھ نہ ہوتا وہ اگر جان نہ پاتا مجھ کو

دُکھ ہے وہ جان کے جانا ہے مجھے انجانہ

اس لیے قالبِ اشعار میں غم ڈھالا ہے

لوگ سمجھیں نہ کہیں شمس اسے افسانہ


شمس بلتستانی

No comments:

Post a Comment