Saturday, 10 July 2021

یہ منصوری سا من میرا بہت ہی سرکش ہوا ہے اب

 یہ منصوری سا من میرا

بہت ہی سرکش ہوا ہے اب

کہ ہو کر خود سے بے گانہ

سبُو اک تھام لیتا ہے

تیرا ہی نام لیتا ہے

حسیں پونم کی راتوں میں

چمکتے چاند کا جب 

ندی پر عکس پڑتا ہے

یہ پاگل رقص کرتا ہے

تجھے ہی یاد رکھتا ہے

زمانہ بُھول جاتا ہے

کہیں سرکش چڑھے سُولی

فسانہ بُھول جاتا ہے

نجانے کون سی بھٹی میں یہ دن رات جلتا ہے

نہ جل کر خاک ہوتا ہے

نہ بُجھ کر خاک ہوتا ہے

یہ منصوری سا من میرا

تیرا مجرم 

تیرا قیدی

تیرے ہی دربار میں حاضر

سزا کا منتظر ٹھہرا

سزا کا ڈر نہیں اس کو

جزا سے بھی نہیں مطلب

تمنا ہے ستائش کی

نہ ہی پرواہ بدلے کی

اسے تو بس تمہارے ہاتھ سے سُولی چڑھنا ہے

اسے منصور بننا ہے


جینا قریشی

No comments:

Post a Comment