لمحات جن میں اس نے کہا ہاتھ دیجئے
جینا نہ جانتے تھے جو، وہ لوگ بھی جیئے
گاؤں کی اک دُکان پہ خوشیوں کے ڈھیر میں
اک غم پڑا تھا، دل نے کہا؛ یہ بھی لیجئے
مخلوقِ بے زبان کا وقتِ سکون ہے
دیمک زدہ کواڑ پہ دستک نہ دیجئے
جیسا بھی ہم کریں یہی کہتے ہیں چارہ جُو
جیسا بھی کیجئے، مگر ایسا نہ کیجئے
پیتے ہیں غم کا جام نکلتے ہیں اشک تب
حکمِ جناب ہوتا ہے؛ ان کو بھی پیجئے
شہرِ ستمگراں ہے رفو سوئی مختصر
فکرِ قبا نہ کیجئے ہونٹوں کو سیجئے
ہجرِ جناب فرض، مقلد پہ قیس کے
پھر اس پہ یہ بھی شرط کہ وہ زندگی جیئے
عین عمر
No comments:
Post a Comment